شخصیت کا
نام:
شہید علی ناصر صفوی
والد کا
نام:
نور محمد
تاریخ پیدائش:
1965-06-05
تاریخ وفات / شہادت:
2000-11-25
شخصیت کا تعارف:
شہید علی ناصر صفوی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں بہت کم بیان کیا جاتا ہے اور بہت کم معلومات ہیں۔ وہ ایک ایسے گمنام شہید ہیں جو تاریخ کا ایک ایسا سر بستہ راز ہے جس میں آنے والی نسلوں کے لیے بہت سے راز پوشیدہ ہیں۔ شہید علی ناصر صفوی ایک ایسی شخصیت تھے جو سادگی اور پرہیز گاری کا ایک عمدہ نمونہ تھی، وہ باکردار و باعمل انسان تھے۔ شہید کی گاڑی کے آڈیو پلئیر میں اکثر نوحے اور تلاوت چلتے رہتے اور شہید تمام راستے گریان نظر آتے، جب آڈیو پلئیر بند ہوتا تو شہید زیادہ تر خاموش رہتے اور فکر کرتے رہتے۔ شہید ناصر صفوی وہ انسان تھے جس کے دل میں ملت کا درد تھا ایسے انسان کے گھر میں بھلا ضرورت کی چند چیزوں کے سوا کیا ملتا، ایک دفعہ کا زکر ہے کہ کچھ دوست گھر آئے تو شہید پانی کے جگ کے ساتھ ایک گلاس اور ایک چائے کا کپ لے آئے، دوست نے پوچھا ناصر بھائی گھر میں کوئی اور گلاس نہیں رکھا کیا۔۔؟ تو شہید بولے ہماری ضرورت دو ہی گلاس ہیں، ایک آپ کی بھابی سے گر کر ٹوٹ چکا تو دوسرا آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔
شہید ناصر صفوی کی زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے بہت سے لوگ ان کی ہمسر کی خدمات و کوششوں کو بہت سے لوگ فراموش کر دیتے ہیں۔ شہیدہ بتول شہیدہ بتول کو امامیہ کمیونٹی کی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو مکتب حسینی کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے شوہر کے ہمراہ شہادت کے درجہ پر فائز ہوئیں ۔
شہیدہ بتول نے اپنی زندگی میں علم و تدریس اور دینی بحث و مباحثہ کو جاری و ساری رکھا۔ ان کی روزمرہ کی زندگی میں توضیح المسائل ،دینی و عالمی آگاہی اور آئمہ معصومین کے سوانح حیات مبارکہ پہ درس و تدریس ھوا کرتا تھا جس میں نیک ازدواجی زندگی ،شوہر کے حقوق ،بچوں کی تربیت ،رشتہ داروں کے حقوق و فرائض ،حجاب ،تقوی و پرہیز گاری ،خلوص و ایمانداری پر نہایت زور دیا کرتی تھیں۔ شہیدہ بتول کے دور حیات میں پاکستانی خواتین زیادہ برسر پیکار نہیں تھیں اس دور میں شہیدہ بتول کی مصروفیات درس و تدریس ھوا کرتی تھیں۔ یہ ان کا جذبہ ہی تھا کہ انکے شوہر شہید ناصر علی صفوی ان کی تربیت کیا کرتے تھے اور انہیں اپنا ہمراز بنایا تھا ۔ باقاعدہ طور پر شہیدہ بتول بھی اپنے شوہر کی مکمل تصویر اور ہمراز بن چکی تھیں۔
شہیدہ بتول نے 25 نومبر 2000ھ کی شب ایک بجے چاروں طرف سے گولیوں کی آوازیں سنیں۔ شہیدہ بتول نے بلکل بی بی سیدہ فاطمہ الزھراء س کی سیرت پر عمل کرتے ھوئے آگے بڑھ کر حاملہ حالت میں اپنے سینے پر گولی کھائی اور دروازے کے پس پشت اپنے شوہر کا دفاع کرتے ھوئے اپنی بی بی سیدہ کونین فاطمہ الزھراء س کی سنت پر عمل کیا۔۔۔