بدھ  ،20 مئی  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

سوال و جواب

سوال و جواب

جواب: ۱) اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ۲) ضروری نہیں کہ مستحب نماز نافلہ نمازوں میں سے ہو۔ ۳) مستحب نماز توڑ سکتا ہے۔
جواب: ضروری ہے کہ قرائت اور واجب اذکار کے دوران نماز پڑھنے والے کا بدن سکون کی حالت میں ہو، مستحب اذکار کے (سوائے "بحول الله و قوته اقوم و اقعد"کے) دوران بھی احتیاط واجب کی بنا پر سکون کی حالت میں ہو۔ لہذا اگر مثلاً تھوڑا آگے یا پیچھے سرکنا چاہے تو جس ذکر کو پڑھنے میں مشغول ہے اسے روک دے اور بدن کے سکون کی حالت میں آنے کے بعد ذکر کو جاری رکھے، البتہ جزئی اور معمولی حرکت جیسے کہ انگلیوں کو ہلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جواب: اس صورت میں کہ جب اس جزء کا ازالہ کیا جاسکتا ہو اور قصد قربت اور نماز کے جزء کی نیت سے اسے دوبارہ دھرا لے تو اس کی نماز صحیح ہے۔