سوال1: ایسا شخص کہ جس کی نماز امام جماعت کے ساتھ رکوع میں دیر سے پہنچنے کی وجہ سے فرادیٰ ہوگئی ہے: ۱۔ کیا وہ اپنی نیت کو مستحبی نماز کی طرف تبدیل کرسکتا ہے؟ ۲۔ کیا مستحب نماز کی نیت کا نافلہ نمازوں میں سے ہونا لازمی ہے؟ ۳۔ کیا وہ اگلی رکعت میں جماعت میں
جواب:
۱) اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
۲) ضروری نہیں کہ مستحب نماز نافلہ نمازوں میں سے ہو۔
۳) مستحب نماز توڑ سکتا ہے۔
سوال8: کیا نماز کے دوران بدن کو حرکت دینا اس طرح کہ حالت نماز سے خارج نہ ہوں، جائز ہے؟
جواب: ضروری ہے کہ قرائت اور واجب اذکار کے دوران نماز پڑھنے والے کا بدن سکون کی حالت میں ہو، مستحب اذکار کے (سوائے "بحول الله و قوته اقوم و اقعد"کے) دوران بھی احتیاط واجب کی بنا پر سکون کی حالت میں ہو۔ لہذا اگر مثلاً تھوڑا آگے یا پیچھے سرکنا چاہے تو جس ذکر کو پڑھنے میں مشغول ہے اسے روک دے اور بدن کے سکون کی حالت میں آنے کے بعد ذکر کو جاری رکھے، البتہ جزئی اور معمولی حرکت جیسے کہ انگلیوں کو ہلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال5: اگر نماز کے کسی جزء کی ادائیگی میں قصد قربت نہ رکھے جبکہ ریا کی نیت بھی نہ رکھتا ہو تو کیا نماز صحیح ہے؟ مثلاً کسی دوسرے کو کوئی بات سمجھانے کے لئے رکوع کے ذکر کو اونچی آواز میں پڑھے۔
جواب: اس صورت میں کہ جب اس جزء کا ازالہ کیا جاسکتا ہو اور قصد قربت اور نماز کے جزء کی نیت سے اسے دوبارہ دھرا لے تو اس کی نماز صحیح ہے۔