اتوار  ،01 مارچ  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
امام موسیٰ کاظم (ع): جس نے خدا کی ثناء اور رسول خدا(ص) پر درود سے سے قبل دعا کی وہ اس شخص کی مانند ہے جو وتر (ڈوری یا زہ) کے بغیر کمان کھینچ لے۔ ( تحف‌العقول ، ص‌ 425)
Image

شخصیات

شخصیات

شخصیت کا نام:
ڈاکٹر محمد علی نقوی
والد کا نام:
سیدامیر نقوی
تاریخ پیدائش:
1995-03-07
تاریخ وفات / شہادت:
1952-09-28
شخصیت کا تعارف:

سفیرانقلاب آغوش مادر سے آغوش مکتب تک

سفیر انقلاب ڈاکٹر محمد علی نقوی ۲۸ ستمبر۱۹۵۲ء کو علی رضا آباد لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ نے جس گود میں آنکھ کھولی وہ علوم آل محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درسگاہ تھی اورجس آنگن میں پروان چڑھے وہ ’’شہرعلم‘‘ کا ایک حصہ تھا۔ آپ کو اپنی پشت میں پہلے عالم زادہ ہونے کا اعزاز تو حاصل تھا ہی مگر ملت جعفریہ کے مسیحا علامہ سید صفدر حسین نجفی مرحوم کی شفقت آپ کو روز اول سے ممتاز کر گئی۔

                محسن ملت حضرت علامہ سید صفدر حسین نجفیؒ،مولانا سید امیر حسین نقویؒ کے بہنوئی تھے۔ ایک بلند پایہ فقیہ اور روحانی شخصیت ہونے کے ناطے آپ سے نومولود بچے کا نام تجویزکرنے کی استدعا کی گئی۔ چنانچہ آپ نے بچے کا نام’’محمدعلی‘‘ رکھا اورساتھ یہ بھی فرمایا کہ ’’میری زندگی میں  اس نام کے ہر شخص نے ستاروں پر کمند ڈالی ہے۔‘‘

                سید محمد علی نقوی کی پیدائش کے وقت آپ کے والد مولانا سید امیر حسین نقوی نجف اشرف میں تھے۔ آپ اسی سال پاکستان آئے تو واپسی پراہل خانہ کو ساتھ لے گئے۔ چنانچہ محمد علی کو نجف وکربلا کی فضائیں جذب کرنے کا موقع نصیب ہوا۔

                آپ نے چلنا نجف میں سیکھا اوربولنا کربلا میں۔۔۔ شاید یہی وجہ تھی کہ زندگی بھرآپ کے قدم علیؑ کی بتائی ہوئی سمت میں اٹھے اورآپ کی زبان حسینؑ کی صدائے ’’ھل من ناصر‘‘ کی یاد تازہ کرتی رہی۔۔۔ آپ دیکھنے کے قابل ہوئے تو کربلا کا وہ نقشہ دیکھا جس کے بارے میں شاعرنے کہا تھا:

مقتل کی سرزمین پہ بناتے رہے حسینؑ

اسلام کی حیات کا نقشہ تمام رات

                تقریباً چھ سال تک نجف وکربلا کی زمین پر پروان چڑھنے کے بعد انقلاب کا یہ ننھا سفیراپنے والد کے ساتھ کینیا کے دارالخلافہ ’’نیروبی‘‘ آگیا جہاں دو سال تک ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کو پدر بزرگوار کے ہمراہ تنزانیہ کے شہر’’لنیڈی‘‘ اورپھر یوگنڈا کے دارالخلافہ’’کمپالہ‘‘ آنا پڑا۔ آپ نے۱۹۶۹ء میں سینئر کیمبرج بھی ’’اولڈ کمپالہ‘‘ سے کیا۔

آپ زمانہ طالب علمی میں مثالی اسکائوٹ تھے۔ آپ نے اسکائوٹ کی تربیت ’’نیروبی‘‘ سے حاصل کی اور’’کمپالہ‘‘ میں بہترین مباحث(DEBATER)کی حیثیت سے اپنا نام روشن کیا۔ آپ مباحثانہ صلاحیت کی بنا پر وہاں کی ’’DEBATING Society‘‘ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اورملک بھر کے مقابلوں میں بیسیوں انعامات جیتے۔

                ۱۹۶۹ء میں آپ پاکستان آئے اورلاہور کی معروف درسگاہ’’گورنمنٹ کالج‘‘ میں ایف۔ایس۔سی پری میڈیکل میں داخلہ لیا۔

                کالج کے پہلے سال میں ماحول کی تبدیلی اورلاہور میں رشتہ داروں کی قربت نے آپ کی تعلیمی رفتارکو متاثر کیا۔ اسی دوران میں آپ کے اندر کی حس تڑپی توآپ نے شیعہ نوجوانوں کی تنظیم’’ینگ شیعہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن‘‘  کی بنیاد رکھی اور اس کے روح رواں بن گئے۔ جب آپ کے والد کو آپ کی سرگرمیوںکا علم ہوا تو انھوںنے تعلیم میں عدم دلچسپی کا شکوہ کیا اورساتھ میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کی صورت میں منہ مانگے انعام کی پیشکش بھی کی۔۔۔ منہ مانگے انعام کا سن کر ’’محمد علی‘‘ نے اپنے والد سے وعدہ لیا کہ اگر انھیں چودہ معصومینؑ کی زیارت گاہوںکی زیارت اورعمرہ کی ادائیگی کے اخراجات دیئے جائیں تو وہ میڈیکل کالج کے میرٹ پر پورا اتریں گے۔ والد صاحب نے حامی بھری تو آپ پختہ عزم کے ساتھ مصروف تعلیم ہوگئے۔ دوسرے سال آپ نے بے پناہ محنت کی اور۷۰ فیصد سے زائد نمبر حاصل کرکے لاہور  میں ایشیاء کے معروف میڈیکل کالج’’کنگ ایڈورڈ‘‘ کے معیار پر پورے اترے۔

                ۱۹۷۲ء میں آپ نے ایم بی۔ بی ۔ایس میں داخلہ لیا تو وعدہ کے مطابق آپ کے والد نے زیارتوں کے تمام اخراجات آپ کو بطورانعام پیش کردیئے۔اسی سال گرمیوں کی تعطیلات ہوئیں تو آپ زیارتوں کے لئے اکیلے عازم سفر ہوئے۔تقریباً دو ماہ تک مقامات مقدسہ پر حقیقی عشق کی پیاس بجھائی ۔سیراب ہوکر واپس لوٹے تو پاکستان کی تاریخ نے ایک اورمحمد علی کی ادائوں کو سمیٹنے کے لئے دامن دراز کر دیئے۔